ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل تعلقہ بیلکے گرام پنچایت کی گرام سبھا میں اترکنڑا ضلع کی زمین پر اُڈپی افسران کے دربار پر عوام کا سخت  اعتراض

بھٹکل تعلقہ بیلکے گرام پنچایت کی گرام سبھا میں اترکنڑا ضلع کی زمین پر اُڈپی افسران کے دربار پر عوام کا سخت  اعتراض

Fri, 26 Jul 2019 21:45:20    S.O. News Service

بھٹکل:26؍جولائی  (ایس اؤ نیوز)اترکنڑا ضلع کی سرحد بھٹکل تعلقہ کے بیلکے میں اُڈپی ضلع کے افسران کا دربار ہے، جس کے نتیجے میں کئی سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس طرح حیرت جتاتے ہوئے جمعہ کو  بیلکے  گرام پنچایت کی گرام سبھا میں عوام اپنی ناراضگی کا اظہار کئے جانےکاواقعہ پیش آیا ہے۔

میٹنگ کے دوران معاملے کو پیش کرتےہوئے گوردھن نائک نے بتایاکہ اُڈپی کی پولس بیلکے حدود میں چک پوسٹ کاقیام کیا ہے۔ ہماری سڑک پر کھڑے ہوکر سواریوں پر کیس درج کررہے ہیں، اس کے علاوہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ہماری سرحد پر ہی ٹول گیٹ لگایاہے، مستقبل میں بھٹکل والوں کو دوسرے ضلع کے شمار کرتے ہوئے فیس وصول کرنےکا خدشہ ہے، اترکنڑا ضلع کے افسران کو اس سلسلے میں بیداری کا ثبوت دیں،اترکنڑا ضلع کا ارضی نقشہ کا صحیح طورپر نشان لگا کر گرام پنچایت کا بورڈ نصب کریں، ورنہ آئندہ دنوں میں بیلکے کازمینی علاقہ ہمیشہ کے لئے اُڈپی میں چلے جانے کا خطرہ جتایا۔میٹنگ کے  صدررمیش نائک، تمیا نائک وغیرہ نے بھر پور ساتھ دیا۔ ولیج اکاؤنٹنٹ نے میٹنگ میں بتایاکہ معاملے کو لےکر  وہ اعلیٰ افسران کو توجہ دلائیں گے۔ مقامی لیڈر بھاسکر موگیر نے میٹنگ کو متوجہ کیا کہ بیلکے علاقے میں اتی کرم ، سکرم کو لےکر جی پی ایس باقی ہے، انہیں اور ایک موقع دینےکا مطالبہ کیا۔ کسانوں کی تکالیف، تارپول کی تقسیم کاری ،فاریسٹ علاقے میں جھاڑیاں ،سواریوں کو ہونے والی  پریشانیوں وغیرہ کا میٹنگ میں ممبروں نے تذکرہ کیا۔ میٹنگ صدر متعلقہ محکمہ جات کے افسران کو مناسب کارروائی کی تاکید کی۔ گرام پنچایت نائب صدر چندراوتی موگیر، تعلقہ پنچایت افسر گائیتری ، نوڈل آفیسر شویتا، پنچایت ترقی جات افسر کمار موگیر وغیرہ موجود تھے۔

26july1.jpg

آیوشمان کے سوال پر ڈاکٹر کی بی پی ریز: حکومت کی طرف سے جاری کردہ آیوشمان آروگیہ کرناٹکا منصوبے کو لے کر  گرام سبھا  میں پرائمری ہیلٹھ سنٹر کے ڈاکٹر سنتوش اور عوام کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔

میٹنگ میں ڈاکٹر سنتوش نے بتایاکہ آیوشمان منصوبے سے استفادہ کرنےو الے علاج کے متعلق تعلقہ اسپتال، ضلع اسپتال جائیں، اگر وہاں سہولیات میسر نہیں ہیں تو وہاں سے تحریری بیان لےکر جدید سہولیات والے اسپتال میں داخل ہونےکی بات کہی۔ بھاسکر موگیر نے اعتراض جتاتے ہوئے کہاکہ بیماری کے دوران مریض ہوکہ مریض کے خاندان والے ،سرکاری اسپتالوں سے تحریری بیان لینے تک مریض مرجاتاہے۔ اتنا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سنتوش نے غصہ ہوکر کہاکہ سرکاری اسپتالوں کے متعلق اس طرح کی باتیں مت کیا کرو، اگر ہمارے پاس سہولیات نہیں تو ضلع اسپتال سے لیٹر لےکر دوسری جگہ جاسکتے ہیں۔ عوام نے پھر اعتراض جتایا تو ڈاکٹر کی بی پی پوری طرح ریز ہوگئی تھی بحث کے لئے تیار ہوگئے۔ نوڈل آفیسر شویتا ڈاکٹر کی حمایت میں کھڑی ہوئیں تو عوام نے انہیں بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ اس کے بعد صدر رمیش نے سب کو مطمئن کرتے ہوئے میٹنگ کو آگے بڑھایا۔

26july_2.jpg


Share: